بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآنی نگاہ کے ذریعے انقلابی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، گہرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے انسان، معاشرے، دشمن، طاقت، عدالت، مزاحمت و مقاومت، امید، عوام اور مستقبل کے بارے میں امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای، (طاب ثراہ) کے نظریئے کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
حصۂ سوئم:
توکل؛ اللہ پر اعتماد عمل کے ہمراہ
توکل بھی قرآن کی منطق میں تدبیر اور اقدام کو ترک کرنے کا نام نہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
"فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ؛
جب حتمی ارادہ کر لیجئے تو اللہ پر توکل (بھروسہ) کیجئے۔" (سورہ آل عمران، آیت 159)۔
آیت کی ترتیب قابلِ غور ہے:
عزم کرو، پھر توکل کرو۔
یعنی توکل تدبیر اور فیصلے کے بعد آتا ہے، اس کی جگہ۔ اسی لئے مطلوب انقلابی طرزِ عمل کو توکل اور عقلیت کے درمیان جمع کرنا چاہئے۔
نہ محض مادی حسابات پر بھروسہ کافی ہے اور نہ ہی عقل اور منصوبہ بندی کو توکل کے نام پر ترک کر دینے سے مسئلہ حل ہوتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ تدبیر، گہرا توکل اور ذمہ دارانہ اقدام؛ انقلابی صبر کو با معنی بنا دیتا ہے۔
جہاد؛ حق کے حصول کے لئے جہد مسلسل
انقلابی طرزِ عمل کو سمجھنے میں جو مفاہیم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، ان میں سے ایک جہاد ہے۔
جہاد کو صرف اس کے عسکری معنی میں محدود نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ تمدنی اور تہذیبی جہاد کا مطلب ہے کمزوری کو طاقت، محدودیت کو موقع اور ولایت کے حکم کے تحت تمام شعبوں اور قلمروؤں میں انتھک کوشش کے ذریعے دشمن کو کمزور کرنا اور اس طرح علمی و سائنسی جہاد، ثقافتی جہاد، اقتصادی جہاد، سماجی جہاد، سیاسی جہاد اور دفاعی اور امن و امان کے لئے جہاد وغیرہ؛ ہر ایک اپنے حالات میں الٰہی اہداف کے حصول کے لئے ذمہ دارانہ کوشش کا مصداق ہو سکتے ہیں۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا؛
اور جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا، ہم انہیں ضرور بضرور اپنی راہوں پر لگاتے ہیں۔" (سورہ عنکبوت، آیت 69)
اس نگاہ میں، جہاد، ہدایت سے جڑ جاتا ہے۔
یعنی حرکت اور مجاہدت، نئے راستوں کے کھلنے کا سبب بنتی ہے۔ اس نظریئے کے ساتھ، انقلابی طرزِ عمل کو ـ اہداف کے حصول کے لئے حقیقی حالات میں ـ مسلسل جہاد کہا جا سکتا ہے۔
عدالت (عدل و انصاف)؛ قرآنی فکر کا سماجی معیار
قرآنی فکر کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک، اس کا عدالت سے گہرا تعلق ہے۔ قرآن انبیاء کی بعثت کا ہدف یوں بیان کرتا ہے:
"لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ؛
تاکہ لوگ عدالت قائم کریں۔" (سورہ حدید، آیت 25)
اس نگاہ میں عدالت، صرف دولت کی تقسیم نہیں۔ عدالت کا مطلب ہے:
• مواقع میں عدالت،
• سہولیات تک رسائی میں عدالت،
• قضائی عدالت،
• تعلیمی عدالت،
• علاقائی عدالت،
• معاشی عدالت،
• سیاسی عدالت اور
• نسلوں کے درمیان عدالت۔
چنانچہ حکمرانی کے میدان میں انقلابی طرزِ عمل کی پیمائش کے لئے یہ اہم معیار مدِ نظر رکھنا چاہئے:
یہ فیصلہ عدالت کے قیام میں کس حد تک معاون رہا ہے؟ یہ سوال "قومی دولت" کے شعبے تک بھی پھیل سکتا ہے:
• عوامی دولت سے کون فائدہ اٹھاتا ہے؟
• اس کا کتنا حصہ محفوظ رہتا ہے؟
• کتنا حصہ آنے والی نسل کو منتقل ہوتا ہے؟
• کیا مواقع کی تقسیم منصفانہ ہے؟
• اور کیا قومی دولت کے انتظام اور نگرانی میں عوام کا کردار ہے؟
یہاں قرآنی فکر، قومی دولت میں عوامی حکمرانی کے نظریئے، سے جڑ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: آیت اللہ عباس کعبی، مورخہ 20 اگست 2026ع
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ